حدیث ۱۵۷۳
قصر نماز اللہ کا صدقہ ہے: سفر میں نماز کا آسان حکم
صحیح مسلم : ۱۵۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : صَدَقَةٌ ، تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
یعلیٰ بن امیہ نے کہا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تو فرماتا ہے: «فلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا» ”کہ کچھ مضائقہ نہیں اگر قصر کرو تم نماز میں اگر خوف ہو تم کو کہ کافر لوگ ستائیں گے“ اور اب تو لوگ امن میں ہو گئے (یعنی اب قصر کیا ضروری ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھی یہی تعجب ہوا جیسے تم کو تعجب ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ نے تم کو صدقہ دیا تو اس کا صدقہ قبول کرو“ (یعنی بغیر خوف کے بھی سفر میں قصر کرو)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۳ کا خلاصہ
یہ حدیث قصر نماز کے بارے میں ایک اہم سوال کا جواب دیتی ہے۔ یعلیٰ بن امیہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قرآن میں قصر کا ذکر خوف کے ساتھ آیا ہے، مگر اب لوگ امن میں ہیں، پھر قصر کا کیا حکم ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی یہی تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کا صدقہ ہے جو اس نے تم پر کیا، پس اس کا صدقہ قبول کرو۔ اس روایت میں قصر نماز، سفر میں نماز، امن میں قصر اور اللہ کا صدقہ بنیادی الفاظ ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ سفر میں قصر کو اللہ کی دی ہوئی آسانی کے طور پر لیا جائے۔ متن میں یہی بات ہے، اس لیے اس سے آگے شرطیں یا تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں قصر نماز کو اللہ کا صدقہ کہا گیا ہے۔
- امن کی حالت میں قصر کے بارے میں سوال کیا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے صدقے کو قبول کرنے کا حکم دیا۔
- دینی سوال پیش آنے پر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیتے تھے۔
