حدیث ۱۴۷۵
نماز جماعت پچیس نمازوں کے برابر: حدیث کا آسان مطلب
صحیح مسلم : ۱۴۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۵
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ ، تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلے شخص کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز اکیلے شخص کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔ یہاں الفاظ بہت صاف ہیں۔ حدیث نماز باجماعت کی فضیلت کو ایک ایسی مثال سے سمجھاتی ہے جسے ہر آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں جماعت کے ساتھ نماز کا اجر بہت بڑھا ہوا بیان ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حال میں انسان دوسروں پر سختی کرے، بلکہ متن کے مطابق اصل بات یہ ہے کہ جماعت کی نماز کو ترجیح دی جائے جب موقع ہو۔ یہ روایت نماز جماعت، مسجد میں نماز، امام کے ساتھ نماز، اور اکیلی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کی قدر کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت کی نماز اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر بیان ہوئی ہے۔
- حدیث نماز باجماعت کی ترغیب دیتی ہے۔
- اکیلی نماز کے مقابلے میں جماعت کا اجر زیادہ ہے۔
- موقع ملے تو جماعت کے ساتھ نماز کو ترجیح دینی چاہیے۔
