حدیث ۱۴۱

ایمان پر جنت کی بشارت اور روایت کے الفاظ کا فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ .

‏‏‏‏ عمیر بن ہانی اس سند میں الفاظ (جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے) کی جگہ یہ لفظ موجود ہیں کہ (اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا چاہے وہ جیسے اعمال کرتا ہوا بھی اس دنیا سے جائے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک اہم بات یہ بیان ہوئی ہے کہ اسی سند میں جنت کی خوشخبری کے الفاظ ایک انداز سے آئے ہیں۔ یہاں یہ الفاظ نہیں کہ انسان جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو، بلکہ یہ الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، چاہے وہ جیسے اعمال کرتا ہوا دنیا سے جائے۔ اس روایت کا اصل پیغام ایمان کی قدر اور اللہ کی رحمت کی امید ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت راوی نے فرق صاف بیان کیا۔ اس لیے دینی بات میں لفظی امانت اور صحیح نقل بہت ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت فرق کو صاف بیان کرنا امانت ہے۔
  • سچے ایمان والے کے لیے اللہ کی رحمت اور جنت کی امید بیان ہوئی ہے۔
  • روایت میں جو الفاظ موجود ہوں، انہی کو بنیاد بنانا چاہیے۔
  • دینی بات میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں