حدیث ۱۴۰۷
شدید گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ ، بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گرمی کی شدت میں نماز پڑھتے تھے، پھر جب کسی سے پیشانی سجدہ میں زمین پر نہ رکھی جاتی تھی تو اپنا کپڑا بچھا کر اس کے اوپر سجدہ کرتا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید گرمی میں نماز پڑھتے تھے۔ جب کسی شخص کے لیے سجدے میں پیشانی زمین پر رکھنا مشکل ہو جاتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا۔ یہ روایت گرمی میں نماز اور کپڑے پر سجدہ کے بارے میں بہت واضح ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ نماز چھوڑتے نہیں تھے، بلکہ جب زمین کی گرمی کی وجہ سے پیشانی رکھنا مشکل ہوتا تو کپڑے کا استعمال کرتے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ نماز کی ادائیگی میں ممکن حد تک آسان طریقہ اختیار کیا گیا، مگر نماز کا اہتمام باقی رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شدید گرمی میں بھی نماز باجماعت ادا کی جاتی تھی۔
- زمین بہت گرم ہو تو کپڑا بچھا کر سجدہ کرنے کا عمل روایت میں آیا ہے۔
- نماز میں مشکل پیش آئے تو حدیث کے اندر موجود عمل کو سمجھ کر رہنمائی لی جاتی ہے۔
