حدیث ۱۴۰۴

ظہر کی نماز کا وقت: سورج ڈھلنے کے بعد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ كلاهما ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، وَابْنِ مَهْدِيٍّ . ح ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . ح ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الظُّهْرَ ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ " .

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر پڑھا کرتے تھے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ظہر کی نماز کے وقت کا مختصر مگر اہم بیان ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھا کرتے تھے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا۔ ظہر کی نماز کا وقت جاننے کے لیے یہ حدیث بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک سادہ عمل بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول سورج ڈھلنے کے بعد ظہر پڑھنے کا تھا۔ اس سے نماز کے وقت کی پابندی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ظہر کی نماز کی حدیث ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ عبادت میں وقت کی پہچان ضروری ہے، کیونکہ نماز مقرر وقت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد ادا کی جاتی تھی۔
  • نماز کے وقت کو پہچاننا عبادت کا اہم حصہ ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نماز کے وقت سمجھنے میں رہنمائی دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں