حدیث ۱۳۶
لا الہ الا اللہ کا یقین اور جنت کی بشارت
صحیح مسلم : ۱۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر جائے اور اس کو اس بات کا یقین ہو کہ کوئی لائق عبادت نہیں سوائے اللہ جل جلالہ کے تو وہ جنت میں جائے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ جنت میں جائے گا۔ یہاں اصل بات صرف زبان کے الفاظ نہیں، بلکہ علم اور یقین ہے۔ انسان کو معلوم ہو کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہے، اور وہ اسی توحید پر دنیا سے جائے۔ حدیث کا پیغام بہت امید دینے والا ہے، مگر ساتھ ہی سنجیدہ بھی ہے، کیونکہ اس میں لا الہ الا اللہ کو علم کے ساتھ ماننے کی بات آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کو سمجھنا، ماننا اور اسی پر قائم رہنا مسلمان کی زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لا الہ الا اللہ کو علم اور یقین کے ساتھ ماننا ضروری ہے۔
- توحید پر موت جنت کی خوشخبری کا سبب ہے۔
- عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
- ایمان کی بنیاد توحید کی سمجھ اور تصدیق ہے۔
