حدیث ۱۲۷

کلمہ توحید اور جان و مال کی حرمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۷

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .

‏‏‏‏ سیدنا جابر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی حدیث بیان کرتے ہیں جو سعید بن مسیّب ابوہریرہ سے بیان کرتے ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۷ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا جابر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے نقل ہوئی ہے اور اس میں وہی مضمون بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ لوگ لا الہ الا اللہ کہیں۔ جب یہ کلمہ کہا جائے تو جان اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں، مگر حق کے بدلے۔ اس طرح حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ اسلام میں کلمہ توحید کا اقرار دنیاوی معاملے میں بہت بڑا اثر رکھتا ہے۔ کسی شخص کے دل کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ ہمیں ظاہر اقرار کے مطابق عدل سے معاملہ کرنا ہے اور کسی کی جان یا مال پر ناحق ہاتھ نہیں ڈالنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کلمہ توحید اسلام کی بنیادی پہچان ہے۔
  • کسی کی جان و مال کو ناحق نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
  • دنیا میں ظاہر اقرار کو دیکھا جاتا ہے۔
  • دلوں کا اصل حساب اللہ کے پاس ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں