حدیث ۱۲۶
توحید، رسالت اور شریعت پر ایمان
صحیح مسلم : ۱۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ، عَصَمُوا مِنِّي ، دِمَاءَهُمْ ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوا اللہ کے اور ایمان لائیں مجھ پر (کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں) اور اس پر جس کو میں لے کر آیا (یعنی قرآن پر اور شریعت کے تمام احکام پر جن کو میں لایا) جب وہ ایسا کریں گے تو انہوں نے مجھ سے بچا لیا اپنی جانوں اور مالوں کو مگر حق کے بدلے اور حساب ان کا اللہ پر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں کلمہ توحید کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ کے لائے ہوئے دین کو ماننے کا ذکر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، مجھ پر ایمان لائیں اور اس پر ایمان لائیں جو میں لے کر آیا ہوں، تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں، مگر حق کے بدلے۔ اس روایت میں ایمان کا دائرہ واضح ہے کہ صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے حکم کو ماننا بھی شامل ہے۔ پھر بھی آخری حساب اللہ ہی کے سپرد ہے، کیونکہ دلوں کی حقیقت اللہ جانتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توحید کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لازم ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو ماننا ایمان کا حصہ ہے۔
- جان اور مال کی حرمت اسلام میں اہم ہے۔
- لوگوں کا آخری حساب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
