حدیث ۱۱۸۲
قبروں کو مسجد نہ بنانے کی حدیث: بیماری کے وقت دی گئی نصیحت
صحیح مسلم : ۱۱۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ ، كَنِيسَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں نے باتیں کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا حال بیان کیا پھر ذکر کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ قبروں کو مسجد بنانے سے بچنا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجا کا حال ذکر کیا۔ پھر وہی بات بیان ہوئی جو پچھلی روایت میں آئی کہ پچھلے لوگ نیک آدمی کی قبر پر مسجد بناتے اور وہاں تصویریں بناتے تھے۔ اس حدیث کا پیغام سادہ ہے: نیک لوگوں کی محبت میں عبادت کی جگہ کو قبر کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ یہ بات اس لیے بھی توجہ کے قابل ہے کہ یہ ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے وقت ہوا، جب بات مختصر مگر بہت سنجیدہ انداز میں سمجھائی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات سمجھاتے وقت اصل مقصد عبادت کو درست رکھنا ہے۔
- نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنانا سابقہ قوموں کا غلط طریقہ بتایا گیا ہے۔
- تصویروں اور قبروں کو عبادت گاہ سے جوڑنے سے بچنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے وقت بھی امت کو اس معاملے سے خبردار کیا۔
