حدیث ۱۰۹۹
پیشانی اور ناک سمیت سات اعضاء پر سجدہ
صحیح مسلم : ۱۰۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَلَا أَكْفِتَ الشَّعْرَ ، وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ ، وَالأَنْفِ ، وَالْيَدَيْنِ ، وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَالقَدَمَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا، بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹنے کا وہ سات اعضاء یہ ہیں: پیشانی اور ناک (یہ دونوں ایک عضو کے حکم میں ہیں) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹنے کا حکم بھی ہے۔ روایت میں ان اعضاء کی وضاحت یوں آئی: پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں قدم۔ اس سے سجدے کے عملی طریقے کی واضح رہنمائی ملتی ہے۔ یہ بات بھی متن میں موجود ہے کہ پیشانی اور ناک ایک ہی عضو کے حکم میں ہیں۔ اس لیے سجدہ کے سات اعضاء، پیشانی اور ناک، ہاتھ گھٹنے پاؤں، اور کپڑے بال نہ سمیٹنا جیسے سرچ الفاظ اس حدیث کے لیے بہت مناسب ہیں۔ حدیث کا پیغام مختصر ہے مگر نماز کے سجدے کے طریقے میں بنیادی رہنمائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں پیشانی اور ناک کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔
- دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدے کے اعضاء میں شامل ہیں۔
- بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹنے کا حکم اس روایت میں بھی موجود ہے۔
