حدیث ۱۰۹
حلال حرام کی پابندی: عمل کے وعدے میں سنجیدگی
صحیح مسلم : ۱۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۹
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِيهِ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! باقی پہلے والی روایت مگر اس میں اضافہ یہ ہے: ”میں اس سے کچھ بھی زیادہ نہ کروں گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو آگے واضح کرتی ہے۔ نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے فرض نماز ادا کرنے، حرام کو حرام سمجھنے اور حلال کو حلال سمجھنے کی بات کی، پھر یہ اضافہ بھی آیا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہ کریں گے۔ متن میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم کیا۔ “حلال حرام کی پابندی”، “فرض نماز کی حدیث” اور “جنت کا سوال” اس روایت کے مناسب سرچ الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات ملتی ہے کہ دین میں صرف جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ واضح حدود کو ماننا اور اپنے عمل کا ذمہ لینا بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال و حرام کی حدوں کو ماننا دینی ذمہ داری ہے۔
- فرض نماز کے ساتھ عمل کا عزم بھی ضروری ہے۔
- زبان سے کہی بات کو زندگی میں پورا کرنا چاہیے۔
