حدیث ۱۰۸۳

سجدے میں دعا: رب کے قریب ہونے کا خاص لمحہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۸۳

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ سجدہ میں اپنے پروردگار سے بہت نزدیک ہوتا ہے تو سجدہ میں بہت دعا کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۳ کا خلاصہ

یہ حدیث سجدے میں دعا کی فضیلت کو بہت سادہ اور دل کو لگنے والے انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ سجدے کی حالت میں اپنے پروردگار سے بہت نزدیک ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں بہت دعا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ صرف نماز کی ایک حرکت نہیں، بلکہ بندگی، عاجزی اور دعا کا خاص موقع ہے۔ جب آدمی اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے تو وہ اپنے رب کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے سجدہ کی دعا، سجدے میں دعا، اور قرب الٰہی جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل پیغام کو ظاہر کرتے ہیں۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ دعا کے لیے لمبی باتیں ضروری ہیں، بلکہ توجہ اس پر ہے کہ سجدے میں اللہ سے مانگا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سجدہ بندے کے لیے اپنے رب کے بہت قریب ہونے کی حالت ہے۔
  • سجدے میں دعا زیادہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  • نماز میں عاجزی کے ساتھ اللہ سے مانگنا اہم عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں