حدیث ۱۰۳۰

ظہر میں سورۂ اعلیٰ اور فجر میں لمبی قرأت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۳۰

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 ، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ " .

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں «بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» پڑھتے تھے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۳۰ کا خلاصہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ظہر کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تھے، اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔ یہ حدیث نمازوں کی قرأت کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ظہر میں سورۂ اعلیٰ کا ذکر آیا، جبکہ فجر کے بارے میں بتایا گیا کہ اس میں قرأت زیادہ لمبی ہوتی تھی۔ روایت کا دائرہ یہی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں ظہر اور فجر کی قرأت کی مقدار میں فرق تھا۔ اس میں نہ ہر نماز کے لیے کوئی الگ لمبی فہرست دی گئی ہے، نہ کوئی اضافی حکم بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم ظہر میں سورۂ اعلیٰ پڑھتے تھے۔
  • فجر کی قرأت ظہر سے لمبی بیان ہوئی ہے۔
  • صحابی نے نمازوں کی قرأت کا فرق نقل کیا۔
  • حدیث میں ظہر اور فجر کی قرأت کا خاص ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں