حدیث ۷۴۹۸

جنت کی نعمتیں: نیک بندوں کے لیے وہ کچھ جو کسی نے نہ دیکھا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۸

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ ، مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .

´ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا کہا، ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جنت کی نعمتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ حدیث میں جنت کی نعمتوں کو انسانی تجربے سے بہت آگے بتایا گیا ہے۔ ہم دنیا میں خوب صورت چیزیں دیکھتے، اچھی آوازیں سنتے اور خوش کن باتیں سوچتے ہیں، مگر اس حدیث کے مطابق جنت کی تیاری ان سب سے بڑھ کر ہے۔ متن میں نیک بندوں کا ذکر ہے، اس لیے بات نیکی اور اللہ کی رضا کے راستے سے جڑی ہے۔ یہ حدیث امید دیتی ہے، مگر امید کے ساتھ نیک عمل کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنت کی نعمتیں دنیا کے دیکھے، سنے اور سوچے ہوئے اندازوں سے بڑھ کر ہیں۔
  • حدیث میں یہ نعمتیں اللہ کے نیک بندوں کے لیے بیان ہوئیں۔
  • آخرت کی امید بندے کو نیکی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
  • جنت کی اصل کیفیت انسان کے مکمل تصور میں نہیں آ سکتی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں