حدیث ۷۳۸۵

تہجد کی جامع دعا اور اللہ پر توکل کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۸۵

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو مِنَ اللَّيْلِ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ قَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ لِي غَيْرُكَ " ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا ، وَقَالَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ .

´ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم لك الحمد أنت رب السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قولك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأسررت وأعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت إلهي لا إله لي غيرك ‏"‏‏.‏» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے «أنت الحق وقولك الحق‏.‏» کہ ”تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ جامع دعا پڑھتے تھے۔ دعا کا آغاز اللہ کی حمد سے ہے: اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمان و زمین کا رب ہے، تو انہیں قائم رکھنے والا ہے، تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ پھر حق باتوں کا اقرار ہے: تیرا قول حق ہے، وعدہ حق ہے، ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت حق ہے۔ پھر بندگی کا اعلان ہے: میں تیرے سامنے جھک گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا۔ آخر میں مغفرت کی دعا ہے: میرے اگلے پچھلے، چھپے اور ظاہر گناہ معاف فرما۔ یہ حدیث تہجد کی دعا، توحید، ایمان، توکل اور استغفار کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ اس کا انداز بندے کو اللہ کے سامنے عاجزی اور یقین کے ساتھ کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعا کی ابتدا اللہ کی حمد سے کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
  • جنت، دوزخ، قیامت اور اللہ کی ملاقات پر ایمان اس دعا میں آیا ہے۔
  • توکل، رجوع اور اسلام سب اللہ ہی کے لیے ہیں۔
  • بندے کو چھپے اور ظاہر سب گناہوں کی مغفرت مانگنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں