حدیث ۷۲۳۲
لا حسد إلا في اثنتين: قرآن اور سخاوت والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۳۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسُدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، يَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ ، فَيَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ " ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بِهَذَا .
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک صرف دو شخصوں پر ہو سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا رہتا ہے اور اس پر (سننے والا) کہے کہ اگر مجھے بھی اس کا ایسا ہی علم ہوتا جیسا کہ اس شخص کو دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو (دیکھنے والا) کہے کہ اگر مجھے بھی اتنا دیا جاتا جیسا اسے دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کر رہا ہے۔“ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے پھر یہی حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قرآن، علم اور مال کا درست استعمال ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن دیا ہو اور وہ دن رات اسے پڑھتا ہو۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہو۔ سننے والا کہتا ہے کہ اگر مجھے بھی ایسا علم یا مال ملتا تو میں بھی یہی عمل کرتا۔ یہاں حسد سے مراد نقصان چاہنا نہیں، بلکہ نیکی جیسی نیکی کی خواہش ہے۔ حدیث میں قرآن کی تلاوت، علم کی قدر، مال کی ذمہ داری اور نیک لوگوں جیسا عمل کرنے کی تمنا کا صاف سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی تلاوت دن رات جاری رکھنا بڑی نیکی ہے۔
- مال تب قابل رشک ہے جب اسے حق میں خرچ کیا جائے۔
- نیکی کرنے والوں جیسا عمل کرنے کی خواہش اچھی ہے۔
- کسی کی نعمت ختم ہونے کی خواہش نہیں، بلکہ نیکی اپنانے کی چاہت ہونی چاہیے۔
