حدیث ۷۲۲۱
وفد بزاخہ کا واقعہ: خلیفہ اور مہاجرین کے فیصلے کا انتظار
صحیح بخاری : ۷۲۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۲۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِوَفْدِ بُزَاخَةَ : " تَتْبَعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ " .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبائل بزاخہ کے وفد سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور اب معافی کے لیے آیا تھا) فرمایا کہ اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی امر بتلا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع خلیفہ کا فیصلہ اور اجتماعی معاملہ ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبائل بزاخہ کے وفد سے فرمایا کہ تم اونٹوں کی دموں کے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی ایسا امر دکھا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔ روایت کے ترجمے میں بتایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہوئے تھے اور پھر معافی کے لیے آئے تھے۔ اس حدیث میں فوری نرمی یا فوری فیصلہ نہیں، بلکہ خلیفہ، مہاجرین اور اللہ کی طرف سے رہنمائی کے انتظار کا ذکر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے اجتماعی جرائم یا معاملات میں فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے اجتماعی معاملے میں خلیفہ اور اہل رائے کی طرف رجوع کیا گیا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوری معافی کا اعلان نہیں کیا۔
- قصور معاف کرنے کے لیے مناسب امر ظاہر ہونے کا انتظار کیا گیا۔
- اجتماعی نظم میں فیصلہ ذاتی جذبات سے نہیں کیا جاتا۔
