حدیث ۷۱۰۷

فتنہ میں رائے کا فرق اور جمعہ کے آداب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۷

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَعَمَّارٍ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : " مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَبَا مَسْعُودٍ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا : يَا غُلَامُ ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا ، وَقَالَ : رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ " .

´ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ` میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں وہی واقعہ بیان ہوا ہے جس میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں موجود تھے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کی تعریف بھی کی اور ایک بات پر تنقید بھی کی کہ وہ اس معاملے میں جلدی کر رہے ہیں۔ عمار رضی اللہ عنہ نے بھی جواب میں کہا کہ انہیں ابومسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کی تاخیر زیادہ ناگوار لگتی ہے۔ روایت کا خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اختلاف کے بعد ابومسعود رضی اللہ عنہ نے دونوں کے لیے حلے منگوائے اور جمعہ کے لیے جانے کو کہا۔ اس سے فتنہ کی حدیث، صحابہ کا ادب، جمعہ کا لباس اور باہمی احترام کا عملی سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تنقید کے ساتھ کسی کے اچھے کردار کا اعتراف بھی کیا جا سکتا ہے۔
  • صحابہ کے درمیان رائے کا فرق تھا، مگر باہمی خیرخواہی بھی موجود رہی۔
  • جمعہ کے دن صاف اور مناسب لباس کا اہتمام روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
  • اختلاف کے بعد تعلق ختم کرنے کے بجائے نرمی اختیار کرنا بہتر رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں