حدیث ۷۰۳۹
مدینہ سے مہیعہ تک: وبا کی خواب میں تعبیر
صحیح بخاری : ۷۰۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ بِمَهْيَعَةَ ، فَتَأَوَّلْتُهَا أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ " .
´ہم سے ابوبکر المقدمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں خواب کے سلسلے میں کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”میں نے ایک پراگندہ بال، سیاہ عورت دیکھی کہ وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ چلی گئی۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا مهيعۃ منتقل ہو گئی ہے۔“ مہیعہ یعنی الجحفۃ کو کہتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی مدینہ کے خواب سے متعلق ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں خواب دیکھا: ایک پراگندہ بال، سیاہ عورت مدینہ سے نکلی اور مہیعہ چلی گئی۔ آپ نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ منتقل ہو گئی۔ پھر متن میں واضح کیا گیا کہ مہیعہ الجحفہ کو کہتے ہیں۔ اس حدیث میں مدینہ، وبا، خواب کی تعبیر، اور الجحفہ جیسے الفاظ اصل ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی نتیجہ نکالنا متن سے باہر ہو گا۔ سادہ طور پر یہ روایت بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا اور خود اس کی تعبیر مدینہ کی وبا کے منتقل ہونے سے بیان فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ سے عورت کا نکلنا خواب کی علامت کے طور پر بیان ہوا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس کی تعبیر وبا کے منتقل ہونے سے لی۔
- روایت خود مہیعہ کو الجحفہ کے نام سے واضح کرتی ہے۔
