حدیث ۶۹۲۶
اہل کتاب کے سلام کا جواب: وعلیکم کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
´ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے، انہوں نے ہشام بن زید بن انس سے، وہ کہتے تھے میں نے اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ` ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کہنے لگا «السام عليك.» یعنی تم مرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعليك".» کہا (تو بھی مرے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہوا، اس نے کیا کہا؟ اس نے «السام عليك.» کہا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (حکم ہو تو) اس کو مار ڈالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں۔ جب کتاب والے یہود اور نصاریٰ تم کو سلام کیا کریں تو تم بھی یہی کہا کرو «وعليكم» ۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث اہل کتاب کے سلام کا جواب سمجھاتی ہے۔ ایک یہودی نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو سلام کے انداز میں بددعا دی اور کہا «السام عليك» یعنی تم مرو۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جواب میں صرف «وعليك» فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سخت ردعمل کی اجازت چاہی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اصول بتایا کہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو جواب میں «وعليكم» کہا کرو۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مشتبہ یا غلط سلام کے جواب میں غصہ، زیادتی یا لمبی بحث کے بجائے مختصر اور محفوظ جواب دیا جائے۔ اس میں وقار، ضبط اور زبان کی احتیاط صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشتبہ سلام کے جواب میں مختصر اور محتاط الفاظ کافی ہیں۔
- غلط بات سن کر فوری سخت ردعمل دینا درست انداز نہیں۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو زیادتی سے روکا اور باوقار جواب سکھایا۔
