حدیث ۶۸۹۸
قسامہ کی حدیث: گواہی، قسم اور دیت کا عدل
صحیح بخاری : ۶۸۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا ، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ : قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ، قَالُوا : مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا ، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا ، فَقَالَ : " الْكُبْرَ الْكُبْرَ ، فَقَالَ : لَهُمْ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ ، قَالُوا : مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ، قَالَ : فَيَحْلِفُونَ ، قَالُوا : لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ` ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قسامہ، گواہی اور دیت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ خیبر گئے، وہاں ان کا ایک ساتھی مقتول ملا۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں پر قتل کا الزام لگایا، مگر ان کے پاس گواہی نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا کہ تم میں بڑا آدمی بات کرے، پھر فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ جب گواہی نہ تھی تو فرمایا کہ دوسری طرف کے لوگ قسم کھائیں گے۔ انصار نے یہودیوں کی قسم قبول کرنے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کا خون رائیگاں جانا پسند نہ فرمایا اور صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دیت میں دے دیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قتل کے دعوے میں گواہی کی اہمیت ہے۔
- فیصلے میں عمر اور ادب کا خیال بھی رکھا گیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مقتول کا خون رائیگاں جانا پسند نہ فرمایا۔
