حدیث ۶۸۵۷
سات کبیرہ گناہ کی حدیث: ہلاک کرنے والی باتوں سے بچیں
صحیح بخاری : ۶۸۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالسِّحْرُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ " .
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث سالم نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن غافل مومن عورتوں کو تہمت لگانا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سات کبیرہ گناہ بیان ہوئے ہیں جنہیں ہلاک کرنے والی باتیں کہا گیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق جان لینا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا، اور پاک دامن غافل مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔ سات کبیرہ گناہ کی حدیث انسان کو یہ بتاتی ہے کہ دین میں کچھ گناہ بہت سنگین ہیں، جن سے خاص طور پر بچنے کا حکم دیا گیا۔ اس روایت میں ہر گناہ الگ نام کے ساتھ آیا ہے، اس لیے ان کو عمومی برائی سمجھ کر ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ مسلمان کو اپنے عقیدے، مال، جان، زبان اور ذمہ داری سب کی حفاظت کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک کو سب سے سنگین گناہوں میں بیان کیا گیا۔
- ناحق قتل، سود اور یتیم کا مال کھانا بڑے گناہوں میں شامل ہیں۔
- پاک دامن مومن عورتوں پر تہمت لگانا ہلاک کرنے والی باتوں میں ہے۔
- حدیث میں سات گناہوں سے صاف الفاظ میں بچنے کا حکم ہے۔
