حدیث ۶۷۶۹
سچا فیصلہ حدیث: ماں کی محبت سے حق ظاہر ہوا
صحیح بخاری : ۶۷۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَتْ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا : إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى ، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتِ الصُّغْرَى : لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ .
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے (اپنے قبیلہ میں) «مدية.» کا لفظ بولتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۹ کا خلاصہ
یہ حدیث ایک فیصلے کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ دو عورتوں کے ساتھ دو بچے تھے، بھیڑیا ایک بچے کو لے گیا، پھر دونوں نے بچے کے بارے میں دعویٰ کیا۔ معاملہ داؤد علیہ السلام کے پاس گیا تو فیصلہ بڑی عورت کے حق میں ہوا۔ پھر وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ، میں بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو دے دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت نے فوراً کہا کہ ایسا نہ کیجیے، یہ بڑی ہی کا بچہ ہے۔ اسی بات سے اس کی ماں والی شفقت ظاہر ہوئی اور فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں ہوا۔ اس حدیث کا اصل موضوع انصاف، سچا فیصلہ، اور ماں کی محبت ہے۔ یہاں بات جذباتی دعوے کی نہیں بلکہ ایسے فیصلے کی ہے جس میں حقیقت کو ظاہر کرنے کا طریقہ اختیار ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سچے فیصلے کے لیے کبھی معاملے کی اصل حقیقت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
- ماں کی شفقت بچے کے نقصان کو برداشت نہیں کرتی۔
- دعوے کے وقت صرف الفاظ نہیں، رویہ بھی حقیقت ظاہر کر سکتا ہے۔
- حدیث میں سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کی حکمت بیان ہوئی ہے۔
