حدیث ۶۷۵۴

بریرہؓ کی حدیث: ولاء اور آزادی کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۴

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ " أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا ، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا ، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا ، فَقَالَ : أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ ، قَالَ : فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا ، قَالَ وَخُيِّرَتْ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَقَالَتْ : لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ " ، قَالَ الْأَسْوَدُ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا " . قَوْلُ الْأَسْوَدِ : مُنْقَطِعٌ ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ : رَأَيْتُهُ عَبْدًا : أَصَحُّ .

´ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا` یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا، مگر ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے لیے ہو گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے علیحدگی کو پسند کیا۔ اس حدیث میں ولاء کا حق، آزاد کرنا، شرط کا مسئلہ اور بریرہ کے اختیار کا ذکر ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کی شرط مالکوں کے لیے مانع نہیں بنی۔
  • ولاء آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔
  • بریرہؓ کو شوہر کے معاملے میں اختیار دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں