حدیث ۶۶۴۳
سورہ اخلاص کی فضیلت: ایک تہائی قرآن کے برابر
صحیح بخاری : ۶۶۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۴۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، يُرَدِّدُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سورہ اخلاص کی فضیلت ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے دوسرے صحابی کو سورہ قل هو الله أحد بار بار پڑھتے سنا۔ صبح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس بات کا ذکر کیا، گویا وہ اس سورت کو کم سمجھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورت قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ سورہ اخلاص ایک تہائی قرآن والی حدیث بتاتی ہے کہ چھوٹی سورت کو کم نہ سمجھا جائے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے، اسی لیے اس کی فضیلت بہت بڑی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورہ اخلاص کو معمولی یا کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔
- قرآن کی چھوٹی سورتوں میں بھی عظیم معنی ہوتے ہیں۔
