حدیث ۶۶۳۶
عامل کا تحفہ: سرکاری مال میں خیانت نہ کریں
صحیح بخاری : ۶۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا ، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : هَذَا لَكُمْ ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي ، فَقَالَ لَهُ : " أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ : هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي ، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ ، فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ ، بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ ، فَقَدْ بَلَّغْتُ " ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلُوهُ .
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ (جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع امانت اور سرکاری ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ وہ کام سے واپس آیا اور کہا کہ یہ مال آپ کا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہتا، پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ پھر آپ نے خطبہ دیا اور سمجھایا کہ جو شخص اس مال میں سے کچھ خیانت کرے گا، قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ عامل کا تحفہ والی حدیث بہت واضح ہے: منصب کی وجہ سے ملنے والی چیز ذاتی تحفہ نہیں سمجھی جا سکتی۔ امانت میں معمولی خیانت بھی بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منصب کی وجہ سے ملنے والا تحفہ مشتبہ ہو سکتا ہے۔
- سرکاری یا اجتماعی مال میں خیانت سخت قابل گرفت ہے۔
- ذمہ دار شخص کو اپنے کام کا حساب دینا چاہیے۔
