حدیث ۶۶۲۸
مقلب القلوب کی قسم: دل اللہ کے اختیار میں ہیں
صحیح بخاری : ۶۶۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم بس اتنی تھی کہ نہیں! دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی قدرت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یہ ہوتی تھی: نہیں، دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم۔ اس مختصر حدیث میں بڑی سادہ بات ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ انسان کا دل بدلتا رہتا ہے، ارادہ بدلتا ہے، سوچ بدلتی ہے، مگر دلوں کا اصل مالک اللہ ہے۔ مقلب القلوب کی قسم والی حدیث ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کا نام لے کر قسم کھانا بہت سنجیدہ بات ہے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں اللہ کی قدرت کا اقرار بھی ہے اور بندے کی محتاجی کا احساس بھی۔ اس لیے دل کی درستگی کے لیے اللہ سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دلوں کا بدلنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
- قسم میں اللہ کی قدرت اور عظمت کا اقرار ہونا چاہیے۔
- انسان کو اپنے دل کی حالت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
