حدیث ۶۶۲۴
ہم آخری امت ہیں مگر قیامت کے دن سبقت پانے والے
صحیح بخاری : ۶۶۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۴
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
´مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ` یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کی ایک فضیلت بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ اردو ترجمے میں یہ بات آئی ہے کہ قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی بات تک محدود رہنی چاہیے کہ امت کا دنیا میں آنا آخر میں ہوا، مگر قیامت کے دن اسے سبقت کی فضیلت دی گئی۔ اس حدیث کا موضوع امت محمدیہ کی فضیلت، قیامت کا دن، اور آخری امت ہے۔ یہ بندے میں شکر پیدا کرتی ہے کہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل کیا، مگر ساتھ ہی عمل اور ایمان کی ذمہ داری بھی یاد رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت محمدیہ دنیا میں آخری امت ہے۔
- قیامت کے دن اس امت کے لیے سبقت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- یہ فضیلت اللہ کا فضل ہے۔
- ایسی فضیلت بندے میں شکر اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔
