حدیث ۶۶۲۳

قسم اور کفارہ: بہتر کام سامنے آئے تو سنت کیا ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۳

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا ، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا : وَاللَّهِ لَا يُبَارَكُ لَنَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا ، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُذَكِّرُهُ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، أَوْ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " .

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں اشعری قبیلے کے لوگوں کا واقعہ ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ کے پاس سواری کا انتظام نہیں، مگر بعد میں تین اونٹنیاں آئیں اور انہیں سواری کے لیے دے دی گئیں۔ صحابہ کو خیال ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قسم کھائی تھی، اس لیے وہ واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، بلکہ اللہ نے سوار کیا۔ پھر فرمایا کہ میں اگر کسی بات پر قسم کھاؤں اور اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں بھلائی دیکھوں، تو کفارہ دوں گا اور بہتر کام کروں گا۔ اس حدیث کا موضوع قسم کا کفارہ، اللہ کی عطا، اور خیر کو اختیار کرنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رزق اور سہولت کا اصل انتظام اللہ کی طرف سے ہے۔
  • قسم کے بعد بہتر کام سامنے آئے تو کفارہ دے کر بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
  • صحابہ کرام قسم کے معاملے میں محتاط تھے۔
  • بھلائی کو اختیار کرنا ضد پر قائم رہنے سے بہتر ہے، جب کفارہ ادا کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں