حدیث ۶۵۶۵

شفاعت کبریٰ کی حدیث: قیامت کے دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شفاعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۶۵

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُونَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ، وَيَقُولُ : ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ، ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ، ائْتُوا مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ، ائْتُوا عِيسَى ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ يُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، ثُمَّ أُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ ، فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ، حَتَّى مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " ، وَكَانَ قَتَادَةُ ، يَقُولُ : عِنْدَ هَذَا ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت لوگ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے حضور میں کسی کی شفاعت لے جائیں تو نفع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے ہم اپنی اس حالت سے نجات پا جائیں۔ چنانچہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ ہی وہ بزرگ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی چھپائی ہوئی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں۔ وہ کہیں گے کہ میں تو اس لائق نہیں ہوں، پھر وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے کہ نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں کہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن یہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن یہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ اس وقت میں اپنے رب سے (شفاعت کی) اجازت چاہوں گا اور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھا لو، مانگو دیا جائے گا، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو، شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنے رب کی اس وقت ایسی حمد بیان کروں گا کہ جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا اور اسی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا، تیسری یا چوتھی مرتبہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے (یعنی جن کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ ہے) قتادہ رحمہ اللہ اس موقع پر کہا کرتے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع شفاعت کبریٰ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا۔ لوگ اپنی سخت حالت سے راحت کے لیے شفاعت تلاش کریں گے۔ وہ آدم علیہ السلام، پھر نوح علیہ السلام، پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام، پھر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، مگر ہر ایک اپنی حالت کا ذکر کر کے آگے بھیج دے گا۔ آخر لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ آپ اپنے رب سے اجازت چاہیں گے، سجدہ کریں گے، پھر کہا جائے گا: سر اٹھائیے، مانگئے دیا جائے گا، کہیے سنا جائے گا، شفاعت کیجیے قبول کی جائے گی۔ پھر آپ شفاعت کریں گے اور ایک حد کے مطابق لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کریں گے۔ حدیث کے آخر میں وہی باقی رہیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن لوگ سخت حالت سے راحت کے لیے شفاعت تلاش کریں گے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے حکم سے شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔
  • شفاعت بھی اللہ کی اجازت اور مقرر حد کے ساتھ ہوگی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں