حدیث ۶۵۰۸
اللہ سے ملاقات کی خواہش والی مختصر حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
´مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بڑا صاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ اس حدیث میں اصل توجہ دل کی حالت پر ہے، خاص طور پر اس وقت جب انسان دنیا سے جانے کے قریب ہو۔ اسی مضمون کی دوسری روایات میں اس بات کی وضاحت آتی ہے کہ مومن کو اللہ کی رضا کی خبر ملتی ہے، تو وہ آگے کی نعمت کو پسند کرتا ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو اپنی زندگی، ایمان اور نیک عمل کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ اللہ سے ملاقات ہر انسان کو پیش آنی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر انسان کو اللہ سے ملاقات کرنی ہے۔
- مومن کے لیے اللہ سے ملاقات محبوب بن جاتی ہے۔
- اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنا بری حالت کی نشانی ہو سکتی ہے۔
- حدیث دل کی تیاری اور ایمان کی حالت پر توجہ دلاتی ہے۔
