حدیث ۶۵۰۷
اللہ سے ملاقات کی محبت: مومن اور کافر کا انجام
صحیح بخاری : ۶۵۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰۷
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَاكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، اخْتَصَرَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَعَمْرٌو ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَقَالَ سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
´ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے) ہوتی ہے، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہو جاتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابودواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ سے ملاقات کی محبت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔ جب سوال ہوا کہ موت تو ہمیں بھی پسند نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ یہاں مراد عام طور پر موت کو پسند کرنا نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ جب مومن کے پاس موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت اسے آگے والی چیز سب سے زیادہ عزیز ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں کافر کو عذاب اور سزا کی خبر دی جاتی ہے، اس لیے وہ آگے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔ یہ حدیث آدمی کو اپنے ایمان اور عمل کی فکر دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے ملاقات کی محبت کا تعلق موت کے وقت دی جانے والی خوشخبری سے ہے۔
- مومن کو اللہ کی رضا اور عزت کی خبر دی جاتی ہے۔
- کافر کو عذاب کی خبر دی جاتی ہے، اس لیے وہ آگے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
- حدیث میں موت کو عام انسانی ناپسندیدگی سے الگ معنی میں سمجھایا گیا ہے۔
