حدیث ۶۳۲۷

دعا میں درمیانی آواز: نہ بہت زور سے نہ بہت آہستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۷

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ ، وَلَا تُخَافِتْ بِهَا " ، أُنْزِلَتْ فِي الدُّعَاءِ .

´ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» دعا کے بارے میں نازل ہوئی (کہ نہ بہت زور زور سے اور نہ بالکل آہستہ آہستہ) بلکہ درمیانی راستہ اختیار کرو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع دعا کا ادب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ دعا کرتے وقت آواز نہ اتنی بلند ہو کہ حد سے بڑھ جائے، اور نہ اتنی آہستہ کہ مناسب انداز باقی نہ رہے، بلکہ درمیانی راستہ اختیار کیا جائے۔ اس حدیث سے دعا کا سادہ ادب معلوم ہوتا ہے۔ بندہ اللہ سے مانگتے وقت وقار، سکون اور اعتدال رکھے۔ دعا میں آواز کا اعتدال، دعا کا ادب، اور نماز و دعا میں مناسب لہجہ اسی روایت کا مرکزی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعا میں آواز کا درمیانی انداز اختیار کرنا بہتر ہے۔
  • دعا میں حد سے زیادہ شور یا غیر ضروری بلند آواز مناسب نہیں۔
  • بالکل دبی ہوئی آواز کے بجائے ایسا انداز ہو جو دعا کے وقار کے مطابق ہو۔
  • عبادت میں اعتدال کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں