حدیث ۶۱۸۵

سفر سے واپسی کی دعا: آیبون تائبون عابدون

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۵

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفُهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ النَّاقَةُ ، فَصُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ ، وَأَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَالَ : أَحْسِبُ اقْتَحَمَ عَنْ بَعِيرِهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ " فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ قَصْدَهَا ، فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ، فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ ، فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا ، فَرَكِبَا فَسَارُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ ، أَوْ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهَا حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ .

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ منورہ کے لیے) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گر گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے (یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون،‏‏‏‏ عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کی سواری پر پیچھے تھیں۔ راستے میں اونٹنی پھسل گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فوراً آئے اور پوچھا کہ کیا آپ کو چوٹ آئی؟ آپ نے فرمایا نہیں، عورت کو دیکھو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا پر کپڑا ڈال کر مدد کی۔ مدینہ کے قریب آپ نے آیبون تائبون عابدون لربنا حامدون پڑھا۔ یہ حدیث سفر کی دعا، پردہ، اور دوسروں کی مدد کے موضوع پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حادثے کے وقت فوراً مدد کرنی چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بجائے صفیہ رضی اللہ عنہا کی خبر لینے کا حکم دیا۔
  • ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے پردے کا خیال رکھتے ہوئے مدد کی۔
  • سفر سے واپسی پر اللہ کی حمد، توبہ اور عبادت کا ذکر کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں