حدیث ۶۱۲۹
بچوں سے محبت کی حدیث: ابو عمیر اور نغیر کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۱۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۲۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ " .
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے (مزاحاً) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير".» ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۲۹ کا خلاصہ
یہ بچوں سے محبت کی حدیث ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ہم بچوں کے ساتھ بھی گھل مل جاتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر سے مزاح کے انداز میں فرماتے: اے ابو عمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ نغیر ایک چھوٹی چڑیا کا نام تھا۔ اس مختصر واقعے سے نبی صلى الله عليه وسلم کے اخلاق کا نرم پہلو سامنے آتا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم بچوں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے، بلکہ ان سے ان کی سمجھ کے مطابق بات کرتے تھے۔ یہاں ہنسی مذاق بھی ہے، محبت بھی ہے، اور بچے کے شوق کا خیال بھی ہے۔ اس لیے یہ حدیث والدین، اساتذہ اور بڑوں کو بتاتی ہے کہ بچوں سے بات کرنا، ان کے دل کی چیز پوچھنا، اور ان سے نرمی رکھنا اچھی تربیت کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں سے نرمی اور خوش مزاجی سے بات کرنا اچھا عمل ہے۔
- بڑے لوگ بچوں کے شوق اور احساسات کا خیال رکھ سکتے ہیں۔
- مزاح اگر پاکیزہ اور نرم ہو تو تعلق مضبوط کرتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم بچوں کے ساتھ بھی قربت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔
