حدیث ۶۰۵۹
تکلیف دہ بات پر صبر: نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِهَذَا وَجْهَ اللَّهِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .
´ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہ تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس شخص کی یہ بات آپ کو سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے بھی زیادہ ایذا دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں صبر اور برداشت کا بڑا سبق ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کچھ مال تقسیم فرمایا تو ایک شخص نے سخت بات کہی کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں تھی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلى الله عليه وسلم کو بتائی تو آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، یعنی بات تکلیف دہ تھی۔ مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ناحق بات سن کر دل کو تکلیف ہو سکتی ہے، مگر صبر اختیار کرنا نبیوں کا طریقہ ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ الزام، بدگمانی یا سخت کلامی کے جواب میں فوراً انتقام یا بدزبانی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنا بڑی خوبی ہے۔
- ناحق الزام انسان کو تکلیف دے سکتا ہے، مگر جواب میں تحمل بہتر ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے صبر کو یاد فرمایا۔
- غصے یا دکھ کے وقت بھی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
