حدیث ۶۰۴۸

غصہ دور کرنے کی حدیث: اعوذ باللہ من الشیطان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۴۸

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ ، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ " ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَقَالَ : أَتُرَى بِي بَأْسٌ ، أَمَجْنُونٌ أَنَا اذْهَبْ .

´ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ` میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر (غصہ کرنے والا شخص) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم مجھ کو روگی سمجھتے ہو یا دیوانہ؟ جا اپنا راستہ لے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں غصے کا علاج بتایا گیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے۔ ان میں سے ایک کو سخت غصہ آیا، یہاں تک کہ اس کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل گیا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے، اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا۔ پھر اسے کہا گیا کہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید غصہ انسان کو بے قابو کر سکتا ہے، اس لیے غصے کے وقت اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے۔ حدیث میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ نصیحت سننا آسان نہیں ہوتا، لیکن فائدہ اسی میں ہے کہ انسان ضد کے بجائے ہدایت کو قبول کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غصے کے وقت شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • گالی گلوچ غصے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
  • شدید غصے میں چہرہ اور رویہ بدل سکتا ہے، اس لیے خود کو روکنا ضروری ہے۔
  • نصیحت کو رد کرنے کے بجائے سننا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں