حدیث ۵۸۹

نفل نماز کے اوقات: آزادی بھی، احتیاط بھی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۹

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ ، لَا أَنْهَى أَحَدًا يُصَلِّي بِلَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ مَا شَاءَ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا " .

´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سے کہا، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ` جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا، میں بھی اسی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو روکتا نہیں۔ دن اور رات کے جس حصہ میں جی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۹ کا خلاصہ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اسی طرح نماز پڑھتا ہوں جس طرح اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا، اور کسی کو دن یا رات میں جس قدر چاہے نماز پڑھنے سے نہیں روکتا، البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کو خاص نہ کرو۔ اس روایت میں بڑی خوبصورت توازن والی بات ہے۔ ایک طرف دن رات نفل نماز کی گنجائش کا ذکر ہے، دوسری طرف طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز سے احتیاط بھی بتائی گئی ہے۔ اس لیے نفل نماز کے اوقات سمجھتے وقت صرف اجازت نہیں دیکھی جائے گی بلکہ وہ وقت بھی دیکھا جائے گا جس سے حدیث نے بچنے کو کہا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دن اور رات میں نفل نماز کی گنجائش کا ذکر ہے۔
  • طلوع آفتاب کے وقت نماز کو خاص نہ کرنے کی ہدایت ہے۔
  • غروب آفتاب کے وقت بھی نماز سے بچنے کا ذکر ہے۔
  • صحابہ کے عمل کو دیکھ کر نماز کا طریقہ سمجھنے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں