حدیث ۵۷۴۶
دم کی دعا: مریض کی شفا اللہ کے حکم سے
صحیح بخاری : ۵۷۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۴۶
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الرُّقْيَةِ : " تُرْبَةُ أَرْضِنَا ، وَرِيقَةُ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا " .
´مجھ سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن سعید نے، انہیں عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «تربة أرضنا، وريقة بعضنا، يشفى سقيمنا، بإذن ربنا".» ”ہماری زمین کی مٹی اور ہمارا بعض تھوک ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے کہ ہماری زمین کی مٹی، ہمارے بعض تھوک کے ساتھ، ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفا دے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ دم کی دعا میں اصل توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ الفاظ میں بھی یہی بات ہے کہ شفا ہمارے رب کے حکم سے ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بیماری میں مسلمان جائز دم اور دعا کے ذریعے اللہ سے شفا مانگتا ہے۔ یہاں دم کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، مگر شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔ اس لیے مریض کے لیے دعا، دم اور اللہ پر بھروسا ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دم میں شفا کی نسبت اللہ کے حکم کی طرف کی گئی ہے۔
- بیمار کے لیے دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- مریض کی شفا کے لیے الفاظ اور عمل دونوں میں اللہ پر بھروسا ہونا چاہیے۔
- اس حدیث میں دم کا طریقہ مختصر مگر واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
