حدیث ۵۷۳۷

سورۃ فاتحہ سے دم اور اللہ کی کتاب پر اجرت کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۳۷

حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ ، فَقَالَ : هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ ، فَبَرَأَ ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَكَرِهُوا ذَلِكَ ، وَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ " .

´ہم سے سیدان بن مضارب ابو محمد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید البراء نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن اخنس ابو مالک نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا (لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا) ایک شخص تھا۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھی، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع سورۃ فاتحہ سے دم اور اجرت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ چند صحابہ ایک پانی کے مقام سے گزرے جہاں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا تھا۔ قبیلے کے آدمی نے پوچھا کہ کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ ایک صحابی اس کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط پر سورۃ فاتحہ پڑھی۔ اللہ کے حکم سے وہ شخص ٹھیک ہو گیا اور بکریاں صحابہ کے پاس لائی گئیں۔ کچھ ساتھیوں نے کہا کہ تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی۔ جب مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو، ان میں اللہ کی کتاب زیادہ مستحق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے کا واقعہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • صحابہ نے معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی کتاب پر اجرت کو جائز قرار دیا۔
  • حدیث میں دم، شرط اور اجرت کا معاملہ واضح طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں