حدیث ۵۶۷۳
جنت اللہ کی رحمت سے ملتی ہے: عمل، امید اور میانہ روی کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : لَا وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَلَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنًا ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میرا بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے (عمل میں) میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو اور تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یا وہ نیک ہو گا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ ہی کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی رحمت، نیک اعمال میں میانہ روی، اور موت کی تمنا سے بچنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ کسی شخص کا عمل اکیلا اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیا آپ کا عمل بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے نوازے۔ اس سے بندے کو یہ سمجھ آتی ہے کہ نیک عمل ضرور کرنے ہیں، مگر اپنے عمل پر غرور نہیں کرنا۔ اصل امید اللہ کے فضل و رحمت سے ہے۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا گیا کہ عمل میں میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو۔ یعنی دین پر چلتے ہوئے ایسا راستہ اپناؤ جو مسلسل نبھ سکے۔ آخر میں موت کی تمنا سے بھی منع کیا گیا، کیونکہ اگر آدمی نیک ہے تو مزید نیکی کا موقع مل سکتا ہے، اور اگر غلطی کرنے والا ہے تو شاید توبہ کر لے۔ یہی اس حدیث کا سیدھا اور آسان پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کا اصل سہارا اللہ کا فضل اور رحمت ہے، صرف اپنے عمل پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
- نیک اعمال میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ بندہ دین پر ثابت قدم رہ سکے۔
- موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ زندگی میں نیکی بڑھانے یا توبہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
- غلطی کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے، اس لیے ناامیدی سے بچنا چاہیے۔
