حدیث ۵۵۰۵
مرنے والی بکری کو پتھر سے ذبح کرنا: نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم
صحیح بخاری : ۵۵۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۰۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا ، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كُلُوهَا " .
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے کہ معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ نے انہیں خبر دی کہ` کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں پھر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لونڈی کا واقعہ آیا ہے۔ وہ سلع پہاڑی پر بکریاں چراتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ جانور کو مرنے سے پہلے ذبح کیا گیا، ذبح کا آلہ پتھر تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی اجازت دی۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ صحابہ ایسے کھانے کے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم معلوم کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بکری مرنے لگی تو اسے مرنے سے پہلے ذبح کیا گیا۔
- ذبح میں پتھر استعمال ہونے کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا گیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو کھانے کا حکم دیا۔
