حدیث ۵۳۰۱
قیامت کی قربت: دو انگلیوں کی مثال
صحیح بخاری : ۵۳۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : سَمِعْتُهُ مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، أَوْ كَهَاتَيْنِ ، وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " .
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے (یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (راوی کو شک تھا) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قیامت کی قربت ہے۔ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اتنی قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس انگلی سے، یا جیسے یہ دونوں انگلیاں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا۔ اس حدیث میں قیامت کے وقت کی تاریخ یا سال بیان نہیں ہوا، بلکہ قربت کو ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ اس لیے اس کی تشریح میں قیامت کی قطعی تاریخ یا مخصوص اندازے شامل کرنا درست نہیں۔ حدیث انسان کو آخرت کی یاد، سنجیدگی اور تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے، مگر متن کے اندر رہ کر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قیامت کی قربت کو دو انگلیوں کی مثال سے سمجھایا۔
- حدیث میں قیامت کا دن یا سال مقرر نہیں کیا گیا۔
- بعثت نبوی صلى الله عليه وسلم کے بعد آخرت کی یاد اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
- مثال مختصر ہے، مگر پیغام بہت واضح ہے۔
