حدیث ۵۲۹۴
جمعہ کی قبولیت والی گھڑی: دعا کا خاص وقت
صحیح بخاری : ۵۲۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۹۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ " ، وَقَالَ بِيَدِهِ وَوَضَعَ أُنْمُلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصِرِ ، قُلْنَا : يُزَهِّدُهَا .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جمعہ کی دعا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اس وقت کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر مانگے تو اللہ اسے دے گا۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جس سے صحابہ نے سمجھا کہ وہ گھڑی بہت مختصر ہے۔ اس لیے اس حدیث میں جمعہ کی فضیلت، دعا اور نماز کی حالت میں اللہ سے خیر مانگنے کی ترغیب ہے۔ متن میں وقت کی قطعی تعیین نہیں آئی، اس لیے وضاحت کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے دن ایک خاص مختصر گھڑی کا ذکر ہے۔
- اس وقت مسلمان نماز میں اللہ سے خیر مانگے تو عطا کا وعدہ ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے اس گھڑی کے مختصر ہونے کو بتایا۔
- حدیث میں اس گھڑی کا قطعی وقت بیان نہیں ہوا۔
