حدیث ۵۲۵۷
نکاح میں نرمی کی حدیث: امیمہ بنت شراحیل کا واقعہ
صحیح بخاری : ۵۲۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۵۷
وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّيْسَابُورِيُّ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَأَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَا : تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَكْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ ،عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا .
´اور حسین بن الولید نیساپوری نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن نے، ان سے عباس بن سہل نے، ان سے ان کے والد (سہل بن سعد) اور ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا تھا، پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لائی گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے ناپسند کیا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ان کا سامان کر دیں اور رازقیہ کے دو کپڑے انہیں پہننے کے لیے دے دیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۵۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی امیمہ بنت شراحیل کے اسی واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئیں تو آپ نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ روایت کے الفاظ کے مطابق انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کریں اور دو رازقی کپڑے انہیں دے دیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ ناپسندیدگی کے بعد معاملہ نرم رکھا گیا۔ اس متن میں کوئی سختی یا زبردستی بیان نہیں ہوئی، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے حساس معاملے میں نرم رویہ اختیار کیا گیا۔
- ناپسندیدگی سامنے آنے پر عورت کو باعزت واپس بھیجا گیا۔
- حدیث میں سامان اور کپڑے دینے کا خاص ذکر موجود ہے۔
