حدیث ۴۸۷۳
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی قرأت: فهل من مدکر
صحیح بخاری : ۴۸۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۷۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَرَأَ :فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 40 " .
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» (دال مہملہ سے) پڑھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی قرأت نقل کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے «فهل من مدكر» پڑھا۔ روایت میں خاص طور پر دال مہملہ کا ذکر ہے، جس سے لفظ کی درست ادائیگی واضح ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید کی قرأت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا پڑھنا اصل معیار ہے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی گفتگو نہیں، نہ کوئی الگ واقعہ بیان ہوا ہے، بلکہ صرف ایک قرآنی لفظ کی صحیح قرأت بتائی گئی ہے۔ جو لوگ فهل من مدکر حدیث، رسول اللہ کی قرأت، یا سورۃ القمر کی تلاوت تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی علم میں لفظی دقت بھی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے «فهل من مدكر» کی قرأت نقل ہوئی ہے۔
- قرآن کے الفاظ کو نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے مطابق پڑھنا چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم قرأت کے الفاظ محفوظ رکھتے تھے۔
