حدیث ۴۸۶۱

صفا مروہ کی سعی: منات والی حدیث کا آسان مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۶۱

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ : " إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ بِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُون ، قَالَ سُفْيَانُ : مَنَاةُ بِالْمُشَلَّلِ مِنْ قُدَيْدٍ . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ عُرْوَةُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ كَانُوا هُمْ وَغَسَّانُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ مِثْلَهُ . وَقَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " كَانَ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كُنَّا لَا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ نَحْوَهُ .

´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ منات بت کے نام پر احرام باندھتے جو مقام مشلل میں تھا، وہ صفا اور مروہ کے درمیان (حج و عمرہ میں) سعی نہیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «إن الصفا والمروة من شعائر الله‏» ”بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف کیا۔ سفیان نے کہا کہ ”مناۃ“ مقام قدید پر مشلل میں تھا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا کہ ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اسلام سے پہلے انصار اور غسان کے لوگ منات کے نام پر احرام باندھتے تھے، پہلی حدیث کی طرح۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قبیلہ انصار کے کچھ لوگ منات کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ منات ایک بت تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان رکھا ہوا تھا (اسلام لانے کے بعد) ان لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم منات کی تعظیم کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کیا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہؓ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی سے متعلق ایک پس منظر بیان کیا۔ کچھ لوگ منات بت کے نام پر احرام باندھتے تھے اور صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے درمیان طواف یعنی سعی کی اور مسلمانوں نے بھی کیا۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ یہ بات انصار اور غسان کے کچھ لوگوں سے متعلق تھی جو اسلام سے پہلے منات کے نام پر احرام باندھتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع صفا مروہ، سعی، اور جاہلی رسم کی اصلاح ہے۔ متن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے اس غلط تاثر کو ختم کیا کہ صفا مروہ کی سعی منات کی وجہ سے چھوڑی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • اسلام نے جاہلی رسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی جھجھک کو درست کیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور مسلمانوں نے بھی کی۔
  • عبادت کو بتوں کی تعظیم سے الگ سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں