حدیث ۴۸۴۱
خذف یعنی کنکری پھینکنے سے منع کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۴۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، إِنِّي مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ .
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے عقبہ بن صہبان سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ` میں درخت کے نیچے بیعت میں موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری لے کر پھینکنے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۴۱ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ درخت کے نیچے بیعت میں موجود تھے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری لے کر پھینکنے سے منع فرمایا۔ اس عمل کو خذف کہا جاتا ہے۔ حدیث میں ممانعت کا ذکر صاف ہے، اس لیے اصل سبق یہ ہے کہ ایسا کھیل یا انداز جس سے فائدہ کم اور نقصان کا اندیشہ ہو، اس سے بچنا چاہیے۔ روایت میں بیعت شجرہ کا ذکر بھی آتا ہے، مگر حکم کا حصہ خذف کی ممانعت ہے۔ مسلمان کو چھوٹی عادتوں میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے خذف یعنی انگلیوں سے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا۔
- چھوٹے کاموں میں بھی سنت کی رہنمائی اہم ہے۔
- ایسے کھیل سے بچنا چاہیے جس سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
- صحابہ نے بیعت شجرہ جیسے واقعات کے ساتھ احکام بھی محفوظ کیے۔
