حدیث ۴۸۳۶
کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ عبادت اور شکر کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۸۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۳۶
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ هُوَ ابْنُ عِلَاقَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہیں ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے زیاد نے بیان کیا اور انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے دونوں پاؤں سوج گئے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ حدیث شکر، عبادت، تہجد اور بندگی کا بہت واضح سبق دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف معافی مانگنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کی نعمتوں پر شکر کے لیے بھی ہوتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب بندے کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اللہ کی رحمت ملنے کے بعد بھی شکر کم نہیں ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت اللہ کے شکر کا ذریعہ بھی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے شکر کے لیے طویل قیام فرمایا۔
- مغفرت ملنے کے باوجود بندگی کا جذبہ باقی رہتا ہے۔
- تہجد اور نماز دل میں شکر کو زندہ کرتی ہے۔
