حدیث ۴۷۸۳

اللہ سے عہد میں سچائی: انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۸۳

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نُرَى هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ : مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23 " .

´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہمارے خیال میں یہ آیت انس بن نضر کے بارے میں نازل ہوئی تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه‏» کہ ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۷۸۳ کا خلاصہ

یہ روایت مختصر مگر بہت بامعنی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ آیت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی: اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں سچے اترے۔ اس حدیث میں اصل بات عہد کی سچائی ہے۔ روایت میں تفصیل نہیں آئی، اس لیے شرح میں بھی صرف اتنا ہی کہنا درست ہے کہ صحابی نے اس آیت کا تعلق انس بن نضر رضی اللہ عنہ سے سمجھا۔ یہ حدیث وعدہ پورا کرنے، اللہ سے کیے ہوئے عہد، سچے اہل ایمان، اور سورۃ الاحزاب آیت 23 کی تفسیر کے لیے اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف دعویٰ نہیں، بلکہ اللہ سے کیے گئے عہد میں ثابت قدمی بھی مطلوب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل ایمان میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ سے کیے عہد میں سچے اترے۔
  • انس رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ آیت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھی۔
  • عہد کی سچائی ایمان کے اہم پہلو کے طور پر سامنے آتی ہے۔
  • آیت کی نسبت بیان کرتے وقت صحابی کا محتاط انداز بھی قابل توجہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں